Tuesday, June 26, 2018

RENEWAL AND RETURN:

In this day and age the greatest dichotomy faced by the Muslim mind between ‘what is’ and ‘what should be’ has led the mind to doubt the viability of action. Action that is based on belief in the eternal to manage the affairs of the ephemeral. It is this very thought process which needs reformation. It is hard to translate something into action which is not prevalent or present in the society around us. 
The reason our beliefs do not translate into a solid presence is our inability to think the way we should. This hindrance is huge as it blinds us from a reality which can very much be. 
Such a reformation of the thought process which encourages faith and discourages doubt. 
 Doubt has led us to the state we are in. We cannot have faith without dealing in faith and faith rejects doubt in its essence. 
To progress towards a more harmonious relationship between the two, it is vital at first to search for a safe place, a middle ground, the Sirat e mustaqeem.
The most common hurdle in coming to a harmonious union of action and belief is a lack of methodology. The methodology for applying something eternal cannot be black and white, it cannot be rigid, it has to be flexible. It has to be dynamic.
Due to the fallibility of human mind it’s inevitable that it becomes rigid/dogmatic if it’s not in a constant process of renewal.
Renewal does not mean rejection of the old for there is no old or new in truth. It has always been One. It will always be one.
Renewal merely means to have the common sense to think and deal with a circumstance, condition, person or people in a method most pertinent to that particular time within the bounds of Tawheed/oneness.
Return to Onenness
Return to Faith
Return
For sometimes thats the most sensible thing to do!

Tuesday, June 12, 2018

Intellectual property’; Another ‘dividing-capitalist’ shtick!:

The very notion of owning an idea is in contradiction to the fickle reality of human intellect and existence. 
A construct designed specially to ‘other’ and create a monopoly over the ownership of certain ideas.
In complete contrast the Islamic perspective of ownership holds a person responsible for an idea but denies monopoly. In islam even an idea is a trust from Allah for the momin which entails responsibility and with that free and unlimited access!
#havefaith

#surrender

Monday, June 11, 2018

نوعیتِ رجوع!

رجوع ،مگر کیسے؟
رجوع دراصل لوٹنے کا عمل ہے ۔  یہ لوٹنا  توبہ  کا بھی اصل ہے۔
لوٹ کر اپنے رویوں ، اپنے افعال ، اپنے اخلاق غرض یہ کہ  اپنے تمام تر وجود اور اُس سے سرزد ہونے اور نہ ہونے والے اثرات  پرنظرِ ثانی ہے۔
نظرِ ثانی اس لیے تاکہ جو اثر مرتب ہوا اس میں بہتری لائی جائے اور اگر بالکل ہی کوئی اثر مرتب نہیں ہوا تو اپنے آپ کا جائزہ لیا جائے۔
ہم بحیثیت قوم رجوع اور خصوصاًرجوع الی اللہ کی اکثر بات کرتے ہیں۔ مگر اس کی نوعیت کیاہوگی اُس  کو بالکل مخاطب نہیں کرتے۔
رجوع چونکُہ ایک  عمل ہے تو لازم ہے کہ اس عمل  میں بہت سے عناصر  شامل ہوں گے۔
ان عناصر میں سے سب سے اہم عنصر تبدیلی ہے۔ اگر تبدیلی واقعہ نہیں ہورہی تو لازماً عمل غیر مکمل ہے۔
حال  ہی میں پاکستان میں پانی کی قلت اور مستقبل کے لئے حکمت عملی پر بہت سی بحثیں پڑھنے کو ملیں۔
نکات تمام ہی اہم تھے- نافرمانی پر رزق کا چھن جانا، اطاعت  پر رزق کی فراوانی۔زمین کے اُوپر سے بھی اور نیچے سے  بھی!
ان  نکات پر زیادہ  مباحث دینی طبقے  کی طرف سے پڑھنے کو ملے۔
دوسری طرف  پانی کم استعمال کرنے اوراُس کو ذخیرہ کرنے کی مادی تدابیر  پر کامل انحصار کرنے کا شور تھا۔
مسئلہ یہ نہیں کہ صیح کون ہے؟!
مسئلہ اس عجیب سطحی سوچ کا ہےجو اپنے اندر اتنی سختی  اور تنگی رکھتی ہے کہ دونوں طریقہ کار   کے بیک وقت  قابلِٰ عمل ہونے اور  دراصل ایک ہی بڑے اور زیادہ جامع عمل کے  جز ہونے کو ناممکن گردانتی  ہے ۔
ایسی تنگ نظری اور کم فہمی  رجوعِ باطنی کو رجوعِ ظاہری سےالگ اور آزاد کر دیتی  ہے۔جس سے باطنی جمود اور ظاہری انتشار  ظہور پذیر ہوتا ہے۔
رجوع ایک  واقعی عمل ہے۔ جس میں ایک موحد و مومن
اپنے باطن کی آیات سے ظاہر کی تعبیر  کرتا ہے اور ظاہر کی آیات سے باطن  کی تعبیر۔
دونوں  کی ہم آہنگی ہی دراصل   کسی بھی نوعیت کے رجوع کی تکمیل  کرتی ہے۔
بارش اور سیلاب کے  پانی کو  ماحول دوست   اور قدرت سےقریب ترین ذرائع  سے  ذخیرہ کرنے کی کوشش، پانی کے  انفرادی و اجتماعی استعمال  کے لیئے ایک کُلی ضابطے کے تعین کی کوشش۔  جس کی تہ میں رضا ربی کی طلب اور اُس کی ناراضگی سے خوف شامل ہوتاہے۔ یۂ سب اور قدرت کی نشانیوں  کے احترام  میں اُ ن کی حفاظت اور  اُن سے مکمل استفادہ بھی رجوع ہی کی ظاہری صورتیں ہے۔
اس سوچ سے نئے طریقوں کی تلاش کہ اب اللہ کی اس نشانی کی بے حرمتی  نہیں  کریں گے ، بھی رجوع اور تجدید عہد کا ہی حصہ ہے ۔
رجوع ایک جاری عمل ہے اور تبدیلی اور ترقی دونوں اسی کا حاصل ہیں۔
ثمین صدف

Sunday, April 29, 2018

راستہ!

کبھی جو راستہ پوچھ بیٹھے
 مجھ سے کوئی تو
لبوں پہ میرے
اک مسکان آکے رک سی جاتی ہے
خیال آتا ہے نہ جانے،
 یہ کتنا بھٹکا راہی ہے
جو راہ دریافت کرنے کو
بھی اک گم راہ سے ٹکرایا
پھر یہ اُمید کے شائد،
اِسی کی مدد کی خاطر
ابھی تک رب نے روکا ہے
مجھے مجبور کرتی ہے
کہ دیا جلاؤں میں
جو گم ہو گئی مجھ سے
وہ راہ اس کو د کھلاؤں میں
ابھی ہر سو اندھیرا ہے
نہ جانے کتنا چلنا ہے
نہ جانے کب سویرا ہے
خیال پوچھتا ہے تو،
اُسے تھپک کر سُلاتی ہوں۔
پھر میں دیا جلاتی ہوں
رب کے سامنے اپنا
  دامن بھی پھیلاتی ہوں
خدایا معاف کردے تو
اپنے اِس بندے کو
جو رستہ بھول بیٹھا ہے
اِسے رستہ دکھا دے تو
روانہ جب سفر پر اپنے
وہ راہی پھر سے ہوتا ہے
پلٹ کر میں
سرِ راہ  پھر
آکے بیٹھ جاتی ہوں
کہ اپنا کام باقی ہے
ابھی اتمام باقی ہے۔
ثمين صدف

سوشل میڈیا اور باصلاحیت بچے

اپنے بچوں کا بچپن اور جوانی ضائع  نہ ہونے

بچوں میں اللہ نے قدرتی طور پر سیکھنے اور جذب کرنے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ رکھی ہوتی ہے۔ آج کل آئے دن روز باصلاحیت بچے اور نوجوان  سوشل میڈیا پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ کبھی گا کر، کبھی ناچ کر ، کبھی اُونچی جگہوں سے چھلانگیں لگا کر، کبھی کچھ ایجاد کرکے، کبھی کسی بھوکے کو کھانا کھلا کے۔ غرض کے صلاحیت آپ سے آپ تشہیر کی محتاج ہوگئی۔ یعنی اگر کسی میں کوئی صلاحیت ہے تو اُس کو فوری محبت حاصل کرنا بے حد آسان ہوگیا ہے۔ سیلف لو اور نارسزم کی ایسی داستانیں رقم کی جارہی ہیں کہ جن کی نظیر نہیں اور یہ سب  موٹیویشن کے لئے۔ لیکن بڑھتی تو صرف ڈپریشن ہے۔
کبھی کلی کو دن میں پھول بنتے دیکھا ہے؟
کبھی بیج کو  دن میں درخت بنتے دیکھا ہے؟
نہین نہ؟  تو خدارا عقل کے ناخن لو اپنے دماغ کے وقتی چسکے کی خاطر معصوم بچوں کو تشہیر کر کر کے سستی شہرت
کا عادی نہ بناؤ، زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے ناواقف بچوں کو پھلنے پھولنے دو۔
کسی ایسی پہاڑی پر مت چڑھاؤ جہاں سے واپسی کا راستہ ہی نا ملے۔
تشہیر صلاحیت کو پنپنے نہیں دیتی۔
محنت اور سفر کی تھکان سے فرار اور شارٹ کٹ مت مہیا کریں۔ جو علم، سفر اور وقت سکھاتا ہے اس کا کوئی بدل نہیں۔
تاریخ میں بڑے نام ہیں جنہوں نے سولہ سترہ سال کی عمر میں  سلطنتوں کا نظام چلایا۔ چودہ سال کی عمر تک  قرآن حدیث اور فقہ کی بیسیوں کتابیں حفظ کیں۔  ماہرِ طبیعات، طب و فلسفہ۔ غرض یہ کہ کونسا محاذ ہے جو اُنھوں نےخالی چھوڑا ہو ۔ مگر اس وقت اُن کی صلاحیت کو  ضائع کرنے کے لئے سوشل میڈیا موجود نہیں تھا۔ سوشل میڈیا   کے مواقع بلکل نقلی ہیں۔
زندگی کے سفر میں کوئی لفٹ نہیں۔
ایک ایک سیڑھی پر قدم رکھنا ضروری ہے!
یقیں محکم عمل پیہم۔۔۔
 #havefaith
#surrender

Saturday, April 28, 2018

Real intelligence!

Real intelligence! 

حسد دراصل اللہ کی تقسیم (عدل)پر اعتراض ہے۔ اس پر ناخوشی اور ناشکری کا اظہار ہے۔
Envy is to be discontent with Allah’s distribution (ADL).

This sentence changed my whole life. It became quite evident to me that I had never thought of envy like this. To me it was unthinkable to have ever been envious of something another person had but I realised I had been quite ungrateful of what I had many a times. 

I had no idea what Allah’s distribution was. When I sought , I found His will, His distribution every where.

To question what He has given or not given and to compare with others is the greatest folly one can venture into. 
We are not perfect, we were never meant to be perfect in this world. 

There is this thirst for fulfilment and completion which is not to be quenched here.

To question divine justice is just like holding a glass to an ocean then expecting the ocean to fit into it.

Foolish ?

Quite! 

All of us seek justice! 
It is in us!
It is this impossibility of complete justice in this world that actually validates and necessitates the day of judgment.

What justice can we provide to those born blind? 

Whatever we accomplish in science, we cannot take away the truth that they were born different !

It can be debated that such people are more gifted and special and that can be true too!

But is it fair?

Is it equal?

Should everything be equal ?

No !

For if justice is to prevail then equality must go!

We are not perfect!

No , we are not perfect as we are !

And yes! It is not required of us to be perfect in an imperfect world. 

To be complete in an incomplete world!

Only our struggle matters!

Our effort matters!

In which way did we struggle. To what end?!

And our surrender!

Our wilful surrender to Allah’s distribution and His will!

رب کی تقسیم پر راضی رہنا سب سے بڑی  عقلمندی ہے!

#Havefaith!
#Surrender! 








Tuesday, April 17, 2018

ادھوری سچائیاں

چلیں،
تو راستہ،
خود شناسی کا
سبھی کو مل ہی جاتا ہے
پرکھ بھی آ ہی جاتی ہے
فرق بھی پڑ ہی جاتا ہے
جو کھوجیں ہم حقیقت کو
کبھی یہ مل بھی جاتی ہے
کبھی یہ ٹل بھی جاتی ہے
تلاشِ اس کی بھی جاری ہے
سفراپنا بھی جاری ہے
 آغازِ سفر میں ہی،
عجب سی تشنگی پائی
مکمل کچھ نہیں ملتا،
ابھی یہ ہی سمجھ آئی
یہاں ہر راہ وقتی ہے
یہاں ہر سچ ادھورا ہے
جو چاہو بھی تو لاحاصل
یہاں ہر چاہت ایسی ہے
ادھوری خواہشیں ساری
ادھوری سعاتیں ساری
سبھی کچھ تو ادھورا ہے
صرف اک رب ہی پورا ہے۔
صرف اک رب ہی پورا ہے۔
ثمین صدف