Sunday, August 13, 2017

درد!

وہ دل کمزور کیونکر ہو
کہ جس میں درد پلتا ہو،
ابھی احساس زندہ ہو۔
اسے میں کیوں کہوں بزدل
جو دل اندھا نہیں ہوتا
جو دل بہرا نہیں ہوتا
کہ جس میں کشفِ یزداں کا
سبب یہ درد بنتا ہو !
یہیں سے جنم لیتا ہے
ہر وہ جوہرِ کارآمد۔
جو پھر آواز بنتا ہے۔
جو پھر انسان بنتا ہے۔
کبھی پھر تم نہ یہ کہنا کہ
درد کمزور کرتا ہے۔
کہ درد ، درد کرتا ہے۔
جو سجدے میں گراتا ہو
درد کرتا بھی ہو تو
اسے نعمت سمجھنا تم
کہ رب کے پاس کرتا ہے
ہمیں انسان رکھتا ہے۔
ثمین صدف

No comments: